Maa baap ki izzat o khidmat Ki Aik Anokhi Dastaan ( Aik Sabaq Amooz Waqya ) - Free Online Istikhara for Marriage & Problems | Istikhara.icu

Maa baap ki izzat o khidmat Ki Aik Anokhi Dastaan ( Aik Sabaq Amooz Waqya )

ماں باپ کی خدمت و عظمت کا ایک انوکھا اور سچا واقعہ

دنیا کی عدالتوں میں عموماً مقدمات جائیداد، زمین یا پیسے کے حصول کے لیے لڑے جاتے ہیں، لیکن سعودی عرب کے شہر قصیم کی شرعی عدالت نے ایک ایسا عجیب و غریب مقدمہ دیکھا جس نے جج، وکلاء اور وہاں موجود ہر شخص کو رلا دیا۔ یہ مقدمہ کسی جائیداد کے لیے نہیں بلکہ ایک بوڑھی اور لاچار ماں کی “خدمت” کا حق حاصل کرنے کے لیے تھا۔


حیزان الفہیدی: وہ شخص جو مقدمہ ہارنے پر زار و قطار رو پڑا

اس واقعے کا مرکزی کردار حیزان الفہیدی ہے، جو بریدہ کے قریب ایک گاؤں کا رہنے والا تھا۔ حیزان اپنی بوڑھی ماں کا بڑا بیٹا تھا اور برسوں سے اپنی ماں کی خدمت کو اپنی زندگی کا واحد مقصد بنائے ہوئے تھا۔ اس کی ماں اتنی بوڑھی اور کمزور ہو چکی تھی کہ ان کا وزن بمشکل 20 کلو ہوگا، لیکن حیزان کے لیے وہ کائنات کا سب سے بڑا خزانہ تھیں۔

جھگڑے کی بنیاد: محبت اور سعادت کی جنگ

جھگڑا تب شروع ہوا جب حیزان کے چھوٹے بھائی نے (جو دوسرے شہر میں رہتا تھا) مطالبہ کیا کہ اب ماں کو وہ اپنے ساتھ لے جائے گا تاکہ اسے بھی ماں کی خدمت کا موقع مل سکے۔ حیزان اس بات پر راضی نہ ہوا، اس کا کہنا تھا کہ “ماں کی خدمت میرا حق ہے اور میں اسے نہیں چھوڑ سکتا۔”

معاملہ عدالت پہنچا، کئی پیشیاں ہوئیں، لیکن دونوں بھائی اپنے موقف سے دستبردار ہونے کو تیار نہ تھے۔ دونوں کا ایک ہی مطالبہ تھا: “ماں میرے پاس رہے گی۔”


عدالت کا فیصلہ اور حیزان کے آنسو

قاضی (جج) نے جب دیکھا کہ معاملہ حل نہیں ہو رہا، تو انہوں نے بوڑھی ماں کو عدالت بلایا اور ان سے پوچھا کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔ ماں نے کمالِ محبت سے جواب دیا:

“اگر حیزان میری ایک آنکھ ہے تو اس کا چھوٹا بھائی میری دوسری آنکھ ہے۔ میں فیصلہ نہیں کر سکتی۔”

قاضی نے دونوں بھائیوں کی مالی حالت اور سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ چھوٹے بھائی کے حق میں سنا دیا۔ جیسے ہی فیصلہ سنایا گیا، حیزان پر گویا قیامت ٹوٹ پڑی۔ وہ عدالت میں دھاڑیں مار مار کر رونے لگا، اس کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہو گئی۔

وہ اس لیے نہیں رو رہا تھا کہ اسے کوئی مالی نقصان ہوا، بلکہ وہ اس لیے رو رہا تھا کہ آج وہ اپنی ماں کی خدمت کے حق سے محروم کر دیا گیا تھا۔


اس واقعے سے حاصل ہونے والا سبق

حیزان کے یہ آنسو آج کے نوجوانوں کے لیے ایک آئینہ ہیں۔ ذرا سوچیے:

  1. والدین بوجھ نہیں، جنت ہیں: حیزان کے لیے ماں کا وجود ایک سعادت تھی، بوجھ نہیں۔
  2. تربیت کا اثر: یہ ان والدین کی بہترین تربیت تھی کہ ان کے بیٹے ان کی خدمت کے لیے عدالتوں میں لڑ رہے تھے۔
  3. اصل جائیداد: انسان کی اصل جائیداد اس کے بوڑھے والدین ہیں، جن کی دعا سے بگڑی ہوئی تقدیریں بن جاتی ہیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQs)

سوال 1: کیا یہ واقعہ سچا ہے؟ جواب: جی ہاں، یہ واقعہ سعودی عرب کے مشہور اخبار “الریاض” میں شائع ہوا اور وہاں کے نامور علماء نے اپنے خطبات میں اس کا ذکر کیا۔

سوال 2: والدین کی خدمت کا اسلام میں کیا مقام ہے؟ جواب: اسلام میں اللہ کی عبادت کے بعد سب سے زیادہ اہمیت والدین کی خدمت اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کو دی گئی ہے۔ قرآن میں حکم ہے کہ انہیں “اف” تک نہ کہو۔

سوال 3: اگر والدین کی خدمت کے لیے بہن بھائیوں میں اختلاف ہو تو کیا کریں؟ جواب: اس صورت میں باہمی مشاورت سے وقت تقسیم کر لینا چاہیے تاکہ ہر اولاد کو اس عظیم سعادت میں حصہ مل سکے اور والدین کو بھی تکلیف نہ ہو۔

مختصر ڈس کلیمر: یہ واقعہ ہمیں والدین کی قدر کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اپنے والدین کی زندگی میں ان کی قدر کریں، اس سے پہلے کہ یہ موقع ہاتھ سے نکل جائے۔

{ “@context”: “https://schema.org”, “@graph”: [ { “@type”: “Article”, “headline”: “Maa Baap ki Izzat o Khidmat Ka Aik Anokha Waqya”, “description”: “Saudi Arab ke Haizan Al-Fahaidi ka sacha waqya jo maa ki khidmat ka haq hasil karne ke liye adalat mein ro para. Aik sabaq amooz dastan.”, “image”: “https://istikhara.icu/wp-content/uploads/2023/08/Maa-baap-ki-izzat-o-khidmat-Ki-Aik-Anokhi-Dastaan-Aik-Sabaq-Amooz-Waqya.png”, “author”: { “@type”: “Person”, “name”: “Ali”, “url”: “https://istikhara.icu” }, “publisher”: { “@type”: “Organization”, “name”: “Istikhara ICU” }, “datePublished”: “2023-08-01”, “dateModified”: “2026-04-26”, “mainEntityOfPage”: { “@type”: “WebPage”, “@id”: “https://istikhara.icu/2023/08/01/maa-baap-ki-izzat-o-khidmat-ki-aik-anokhi-dastaan-aik-sabaq-amooz-waqya/” } }, { “@type”: “FAQPage”, “mainEntity”: [ { “@type”: “Question”, “name”: “Haizan adalat mein kyun ro raha tha?”, “acceptedAnswer”: { “@type”: “Answer”, “text”: “Haizan is liye ro raha tha kyunke adalat ne maa ki khidmat ka haq uske chote bhai ko de diya tha aur wo is saadat se mehroom ho gaya tha.” } }, { “@type”: “Question”, “name”: “Islam mein maa baap ki khidmat ki kya ahmiyat hai?”, “acceptedAnswer”: { “@type”: “Answer”, “text”: “Islam mein waldain ki khidmat ko jihad se afzal aur jannat hasil karne ka sab se asan zariya qarar diya gaya hai.” } } ] } ] }
Please follow and like us:
Pin Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Rating
RSS
Follow by Email