انگلش میڈیم یا عربی؟ ایک بدقسمت باپ کے پچھتاوے کی داستان
حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: “قیامت کے دن ایک حافظِ قرآن اپنے خاندان کے دس ایسے افراد کی سفارش کرے گا جن پر جہنم واجب ہو چکی ہوگی اور اللہ تعالیٰ اس کی سفارش قبول فرمائے گا۔” (ترمذی)
مسجد میں امام صاحب کی زبان سے یہ حدیث سنتے ہی میرے سینے میں اک ہوک سی اٹھی۔ میں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور سوچا: “میں کتنا بدنصیب باپ ہوں، میری اولاد آج میرے کسی کام کی نہیں۔”
دنیاوی چکا چوند اور میری غلطی
میں نے اپنی اولاد کو پالا پوسا، ان کی ہر خواہش پوری کی، لیکن میں نے انہیں دین کے بجائے صرف دنیاوی تعلیم اور “انگلش میڈیم” اسکولوں کی دوڑ میں لگا دیا۔ مجھے بڑا فخر ہوتا تھا جب میرا چھوٹا بیٹا مجھ سے انگلش میں بات کرتا تھا، میں خوشی سے اسے انعام دیتا تھا۔ لیکن آج جب میں بوڑھا اور لاچار ہو گیا ہوں، تو وہی اولاد مجھے بوجھ سمجھ رہی ہے۔
قاری صاحب کی وہ نصیحت جو میں نے ٹھکرا دی
مجھے یاد ہے جب میری نیک بخت بیوی نے کہا تھا کہ بچوں کو قرآن بھی پڑھانا چاہیے۔ میں پاس کے مدرسے گیا، قاری صاحب سے کہا کہ بچوں کے پاس صرف آدھا گھنٹہ ہوتا ہے۔ قاری صاحب نے معذرت کر لی اور ایک ایسی بات کہی جو آج میرے دل پر تیر بن کر لگ رہی ہے:
“دنیاوی تعلیم کے لیے بارہ گھنٹے اور خالق کے کلام کے لیے صرف آدھا گھنٹہ؟ یاد رکھیں! یہ ڈگریاں صرف زندگی تک ساتھ دیں گی، قبر میں صرف دینی تعلیم کام آئے گی۔”
میں اس وقت قاری صاحب کی بات نہ سمجھا اور غصے میں واپس آ گیا۔ میں نے بڑے بیٹے کو ڈاکٹر بنایا تاکہ وہ بڑھاپے میں میرا علاج کرے، چھوٹے کو بزنس مین بنایا تاکہ وہ سہارا بنے۔ لیکن آج افسوس! ڈاکٹر بیٹے کے پاس میرا حال پوچھنے کا وقت نہیں اور بزنس مین بیٹا پیسے کی ہوس میں مجھے بھول چکا ہے۔
پچھتاوا اور تنہائی
میری شریکِ حیات اس صدمے سے چل بسی، بہوئیں مجھے بوجھ سمجھتی ہیں اور بیٹے اپنی زندگیوں میں مگن ہیں۔ آج مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ:
- کیا میرے مرنے کے بعد یہ مجھے غسل دے سکیں گے؟
- کیا انہیں میرا جنازہ پڑھانا آتا ہوگا؟
- کیا یہ میری قبر پر بیٹھ کر قرآن کی تلاوت کر سکیں گے؟
کاش! میں نے انہیں ڈاکٹر اور افسر بنانے کے ساتھ ساتھ ایک “مسلمان” بھی بنایا ہوتا۔ کاش میں نے انہیں بتایا ہوتا کہ والدین کی خدمت پر اللہ نے کیا انعامات رکھے ہیں۔
اس واقعے سے حاصل ہونے والا سبق (Moral)
تعلیم حاصل کرنا جرم نہیں، لیکن دین کو پسِ پشت ڈال کر صرف دنیا کی دوڑ میں لگ جانا سراسر گھاٹا ہے۔
- توازن: بچوں کو دنیاوی تعلیم ضرور دلوائیں لیکن دینی تعلیم کو ترجیح دیں۔
- حقیقی کامیابی: کامیاب انسان وہ ہے جس کے پاس دونوں تعلیمات ہوں تاکہ وہ دنیا میں بھی عزت پائے اور آخرت میں اپنے والدین کی بخشش کا ذریعہ بنے۔
- وقت کی قدر: جب تک وقت ہے، اپنی اولاد کی تربیت اسلامی خطوط پر کریں، کہیں کل آپ کو بھی حیزان الفہیدی کے برعکس اس بدنصیب باپ کی طرح رونا نہ پڑے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQs)
سوال 1: کیا انگلش اسکول میں پڑھانا غلط ہے؟ جواب: ہرگز نہیں! جدید تعلیم وقت کی ضرورت ہے، لیکن بچے کو بنیادی دینی فرائض، نماز، قرآن اور والدین کے حقوق سے واقف کرانا باپ کی ذمہ داری ہے۔
سوال 2: اگر اولاد نافرمان ہو جائے تو کیا کرنا چاہیے؟ جواب: اللہ سے ہدایت کی دعا کریں، استغفار کی کثرت کریں اور اپنی تربیت کی کمیوں پر توبہ کریں۔
سوال 3: کیا حافظِ قرآن کی سفارش والی حدیث مستند ہے؟ جواب: جی ہاں، یہ حدیث مبارکہ ترمذی اور مسندِ احمد میں موجود ہے اور قرآن کی عظمت کو بیان کرتی ہے۔
{ “@context”: “https://schema.org”, “@graph”: [ { “@type”: “Article”, “headline”: “English ya Arabic – Aik Sabaq Amooz Waqea”, “description”: “Dunyawi taleem ko deeni taleem par tarjeeh denay walay aik baap ka pachtawa. Aik sacha aur sabaq amooz waqea.”, “image”: “https://istikhara.icu/wp-content/uploads/2023/08/Bachoon-Ko-English-Ya-Arabi-Aik-Sabaq-Amooz-Waqiya.png”, “author”: { “@type”: “Person”, “name”: “Ali”, “url”: “https://istikhara.icu” }, “publisher”: { “@type”: “Organization”, “name”: “Istikhara ICU” }, “datePublished”: “2023-08-01”, “dateModified”: “2026-04-26”, “mainEntityOfPage”: { “@type”: “WebPage”, “@id”: “https://istikhara.icu/2023/08/01/bachoon-ko-english-ya-arabi-aik-sabaq-amooz-waqiya/” } } ] }موجبِ عبرت: اے کاش کہ ہم اپنی اولاد کو ڈگریاں بانٹنے والی مشین بنانے کے بجائے، “انسان” اور “مسلمان” بنائیں۔


Leave a Reply