How people bewitch themselves. Black Magic Watch Video
جادو اور جنات کی حقیقت: شیطانی اثرات سے آسیب تک کا سفر
جادو اور جنات ہماری اس دنیا کے اندر موجود ایسی حقیقت ہیں جن کی موجودگی سے کوئی بھی مسلمان یا کسی بھی مذہب کو ماننے والا شخص انکار نہیں کر سکتا۔ قرآن کریم میں ان کا ذکر واضح طور پر موجود ہے، خاص طور پر حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور کے واقعات اس پر گواہ ہیں۔
جادو اور شیطانی جنات کا تعلق
جادو دراصل شیطانی جنات کو قابو کر کے ان سے ناجائز کام کروانے کا نام ہے۔ یہ جنات کسی فائدے کے بدلے انسان کی مدد کرتے ہیں، لیکن ان کی شرائط انتہائی غلیظ اور کفر پر مبنی ہوتی ہیں۔
جادوگروں کے قبیح افعال
جتنا زیادہ کوئی جادوگر گناہ اور کفر کا ارتکاب کرتا ہے، شیطانی جنات اس کی اتنی ہی زیادہ مدد کرتے ہیں۔ ان افعال میں شامل ہیں:
- سورج، چاند یا شیطان کو سجدہ کرنا۔
- شیطان کے نام پر قربانی کرنا۔
- ناپاکی کی حالت میں رہنا اور غسل نہ کرنا۔
- نعوذ باللہ قرآن پاک کے الفاظ کی تذلیل کرنا۔
قرآن پاک میں ارشاد ہے:
“کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیطان کس پر اترتے ہیں؟ وہ ہر ایک جھوٹے گناہ گار پر اترتے ہیں۔” (الشعراء)
سحر اور معجزے میں فرق
عربی زبان میں جادو کے لیے ‘سحر’ کا لفظ استعمال ہوتا ہے، جس کے معنی حقیقت کو پھیر دینا یا دھوکا دینا ہیں۔ جادو صرف نظروں کا دھوکا ہوتا ہے، اس میں حقیقت نہیں بدلتی، جبکہ ‘معجزہ’ اللہ کے حکم سے حقیقت کو بالکل بدل دیتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ پر جادو کا اثر اور اس کا حل
صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ لبید بن اعصم یہودی نے آپ ﷺ پر جادو کیا تھا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ آپ ﷺ کو محسوس ہوتا کہ آپ نے کوئی کام کر لیا ہے جبکہ حقیقت میں وہ نہیں کیا ہوتا تھا۔
- فرشتوں کی آمد: حضرت جبرائیلؑ اور حضرت میکائیلؑ نے آکر بتایا کہ جادو کی چیزیں ایک کنویں کے اندر دفن ہیں۔
- علاج: آپ ﷺ نے ان اشیاء کو نکال کر تلف کیا اور لوگوں کو اس سے بچنے کی تلقین فرمائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ سات ہلاک کر دینے والی چیزوں سے بچو، جن میں سے ایک جادو (شرک) ہے۔

غیر ارادی جادو یا آسیب کیا ہے؟
کچھ جادو وہ ہوتا ہے جو کوئی دوسرا آپ پر کرواتا ہے، لیکن ایک قسم ایسی بھی ہے جسے ‘آسیب’ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ جادو ہے جو انسان نادانستہ طور پر خود اپنے اوپر کر لیتا ہے۔
جنات کب حملہ کرتے ہیں؟
شیطانی جنات ہر جگہ پائے جاتے ہیں، لیکن کچھ کیفیات ایسی ہیں جن میں ان کا حملہ آسان ہو جاتا ہے:
- گندگی اور غلاظت: جہاں صفائی نہ ہو، وہاں ان کا بسیرا زیادہ ہوتا ہے۔
- شدید غصہ یا خوف: غصے کی حالت میں انسانی جسم کی فریکوئنسی ان کے لیے سازگار ہو جاتی ہے۔
- ناامیدی اور تنہائی: بیت الخلا میں بیٹھ کر ناامیدی کی باتیں کرنا یا اکیلے اندھیرے میں وقت گزارنا۔
- بے حیائی: بے حیائی کے کاموں کے وقت یہ انسانی دماغ پر جلد قابض ہو جاتے ہیں۔
جنات کی مختلف اقسام اور شکلیں
جنات کی کئی اقسام ہیں؛ کچھ طاقتور ہیں، کچھ اڑنے والے اور کچھ زمین پر رہنے والے۔ یہ مختلف جانوروں جیسے سانپ، بچھو، گدھے، کتے اور پرندوں کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان ہر کسی کی شکل اختیار کر سکتا ہے سوائے آپ ﷺ کے چہرہ مبارک کے۔
نتیجہ اور نصیحت
جادو اور آسیب سے بچنے کا واحد راستہ اللہ کی پناہ، مسنون دعائیں اور صفائی ستھرائی کا اہتمام ہے۔ اپنے گھروں کو ذکرِ الٰہی سے آباد رکھیں تاکہ شیطانی جنات کو وہاں جگہ نہ مل سکے۔
مزید معلومات کے لیے وزٹ کریں: istikhara.icu


Leave a Reply