اسلام میں بدشگونی، نحوست اور فال نامے کی حقیقت
اسلام دینِ فطرت ہے جو انسان کو توہم پرستی کی زنجیروں سے نکال کر توحید کے اجالے میں لاتا ہے۔ دورِ جہالت میں عرب لوگ پرندوں کے اڑنے، جانوروں کی آوازوں اور مخصوص مہینوں سے اپنی قسمت کا حال معلوم کرتے تھے، جسے اسلام نے مکمل طور پر باطل قرار دیا۔
۱. بدشگونی اور نحوست: دورِ جہالت کا ورثہ
عرب میں دستور تھا کہ اگر کوئی سفر پر نکلتا اور پرندہ دائیں جانب اڑتا تو اسے خوش بختی کی علامت سمجھ کر سفر جاری رکھتا، اور اگر بائیں جانب اڑتا تو اسے ‘نحوست’ سمجھ کر سفر کینسل کر دیتا۔ اسی طرح مخصوص رنگ کے جانوروں یا الفاظ سے فال لی جاتی تھی۔
- اسلام کا موقف: قرآن مجید میں واضح کیا گیا کہ انسان کی برائی اور بھلائی اس کے اپنے عمل سے جڑی ہے، کسی پرندے یا جانور سے نہیں۔
۲. قرآن مجید کی روشنی میں بدشگونی کا رد
قرآن پاک میں مختلف مقامات پر گزشتہ قوموں (فرعون، قومِ ثمود وغیرہ) کا ذکر ہے جو انبیاء کرام کو ‘منحوس’ قرار دیتے تھے۔
- سورہ یٰسین: جب رسولوں نے تبلیغ کی تو لوگوں نے کہا کہ ہم تمہیں ‘منحوس’ سمجھتے ہیں۔ رسولوں نے جواب دیا: “تمہاری نحوست تمہارے اپنے ساتھ لگی ہوئی ہے” (یعنی تمہارے اپنے اعمال کی وجہ سے ہے)۔
- سورہ النساء: اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ “جو بھلائی ملتی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے نفس (عمل) کی وجہ سے ہے”۔
۳. فال نکالنا اور تیروں کا کھیل (الازلام)
زمانہ جاہلیت میں لوگ تیروں پر “ہاں” اور “نہ” لکھ کر کام شروع کرنے سے پہلے قسمت آزماتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ المائدہ میں اسے “شیطانی کام” اور “فسق” قرار دیا ہے۔ اسلام نے اس کے متبادل کے طور پر ہمیں “استخارہ” کی خوبصورت تعلیم دی ہے، جس میں بندہ براہِ راست اللہ سے خیر کا سوال کرتا ہے۔
۴. موجودہ دور کی بدشگونیاں
افسوس کہ آج کے دور میں بھی بہت سے مسلمان وہی جاہلانہ رسومات اپنائے ہوئے ہیں، جیسے:
- کوے کا بولنا (مہمان آنے کی خبر)۔
- شیشے کا ٹوٹنا یا دودھ کا گرنا (کسی مصیبت کی علامت)۔
- نئی دلہن کو گھر کی نحوست کا ذمہ دار ٹھہرانا۔
- ہاتھ یا پاؤں میں خارش کو دولت یا سفر سے جوڑنا۔
۵. احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں حکم
نبی کریم ﷺ نے ان تمام تصورات کی جڑ کاٹ دی:
- بدشگونی شرک ہے: آپ ﷺ نے تین بار فرمایا: “بدشگونی لینا شرک ہے” (ترمذی)۔
- نحوست کا وجود نہیں: آپ ﷺ نے فرمایا: “نہ بیماری اڑ کر لگتی ہے، نہ بدشگونی کی کوئی حقیقت ہے، نہ الو (کی آواز) منحوس ہے اور نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے” (بخاری)۔
FAQ Section (سوال و جواب)
سوال 1: کیا اسلام میں کوئی دن یا مہینہ منحوس ہوتا ہے؟ جی نہیں، اسلام میں کوئی بھی دن، گھڑی یا مہینہ (جیسے صفر کا مہینہ) بذاتِ خود منحوس نہیں ہے۔ نحوست انسان کے اپنے اعمال میں ہوتی ہے۔
سوال 2: اگر دل میں برا شگون پیدا ہو جائے تو کیا کریں؟ انسان ہونے کے ناطے کبھی ایسا خیال آ سکتا ہے، لیکن حدیث کے مطابق اللہ پر یقین (توکل) رکھنے سے یہ اثر ختم ہو جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے اس کے لیے دعا بھی سکھائی ہے: “اے اللہ! تیری ہی دی ہوئی بھلائی بھلائی ہے، اور تیری ہی دی ہوئی فال فال ہے، اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں”۔
سوال 3: فال نامہ اور قرعہ اندازی میں کیا فرق ہے؟ قسمت معلوم کرنے کے لیے فال نکالنا حرام ہے، لیکن اگر کسی جائز کام کی تقسیم کے لیے (جیسے انعام نکالنا یا باری مقرر کرنا) قرعہ اندازی کی جائے تو وہ جائز ہے۔
سوال 4: کوا بولنے یا آنکھ پھڑکنے کی شرعی حقیقت کیا ہے؟ ان چیزوں کی کوئی شرعی حقیقت نہیں ہے۔ یہ محض وہم ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ خوشی یا غم صرف اللہ کے حکم سے آتے ہیں۔
دستبرداری (Disclaimer)
۱. عمومی معلومات: اس ویب سائٹ (istikhara.icu) پر فراہم کردہ تمام مواد، بشمول مضامین، قرآنی آیات، احادیثِ مبارکہ اور وظائف، صرف تعلیمی اور اصلاحی مقاصد کے لیے ہیں۔ ہم پوری کوشش کرتے ہیں کہ معلومات مستند اور درست ہوں، تاہم کسی بھی انسانی یا تکنیکی غلطی کی صورت میں ویب سائٹ انتظامیہ ذمہ دار نہ ہوگی۔
{ “@context”: “https://schema.org”, “@type”: “Article”, “headline”: “Islam Mein Badshugni, Nahusat Aur Faal Name Ki Haqeeqat”, “description”: “Daur-e-jahalat ki badshugniyan aur maujooda zamane mein phaili hui nahusat ki rasm o rawaj ka Quran o Hadees se radd.”, “author”: { “@type”: “Person”, “name”: “Ali” }, “mainEntityOfPage”: { “@type”: “WebPage”, “@id”: “https://istikhara.icu/islam-nahusat-badshugni-aur-faal-nikalna/” }, “image”: “https://istikhara.icu/wp-content/uploads/2023/07/istikhara-icu-badshaguni-nahosat-aur-falnama-istikhara-online-istikhara-ki-dua.jpg”, “publisher”: { “@type”: “Organization”, “name”: “Istikhara ICU” }, “articleBody”: “Islam ne jahiliyat ki tamaam badshugniyon ko khatam kar diya hai. परिंदوں ki parwaaz ya janwaron ki awaz se qismat maloom karna shirk hai. Quran-e-Majeed ki Surah Al-Maidah mein teeron ke zariye faal nikalne ko haram qarar diya gaya. Nabi Kareem (PBUH) ne farmaya ke badshugni shirk hai aur Safar ka mahina ya ullu ki awaz nahusat ki alamat nahi hain. Insaan ki kamyabi ka daromadar sirf uske naik amaal aur Allah par tawakkul par hai.” }

Leave a Reply