اذان اور اقامت کے درمیانی اذکار اور دعائیں: سنتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں
اسلام میں نماز کے لیے پکاری جانے والی اذان اور نماز کے قیام کے لیے کہی جانے والی اقامت، دونوں ہی ذکرِ الٰہی کے بلند ترین کلمات ہیں۔ ان کے درمیان کا وقت دعا کی قبولیت کا سنہری موقع ہوتا ہے۔
1. اذان سے قبل اور اقامت کے وقت دعا کی حقیقت
- اذان سے قبل: اذان شروع ہونے سے پہلے کوئی خاص دعا یا کلمات پڑھنا سنت سے ثابت نہیں ہے۔ اگر اسے لازمی سمجھ کر پڑھا جائے تو یہ “بدعت” کے زمرے میں آتا ہے۔
- اقامت کے وقت: جب موذن اقامت شروع کرے، تو اس وقت بھی کوئی خاص دعا پڑھنا ثابت نہیں ہے۔ بغیر دلیل کے کسی کلام کو اس وقت کے لیے خاص کر لینا درست نہیں۔
2. اذان کا جواب دینے کا طریقہ (مسنون عمل)
جب موذن اذان دے رہا ہو، تو سننے والے کے لیے مسنون یہ ہے کہ وہ وہی کلمات دہرائے جو موذن کہہ رہا ہے۔ البتہ:
- جب موذن “حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ” اور “حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ” کہے، تو جواب میں “لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللہِ” پڑھنا چاہیے۔
حدیثِ مبارکہ: “جو شخص صدقِ دل سے موذن کے کلمات کو دہراتا ہے (اور حی علی الصلاۃ پر لاحول پڑھتا ہے)، وہ جنت میں داخل ہو گا۔” (صحیح مسلم)
3. اذان کے بعد کی مسنون دعا
اذان مکمل ہونے کے بعد درود شریف پڑھنا اور پھر درج ذیل دعا پڑھنا نبی کریم ﷺ کی شفاعت کا حقدار بنا دیتا ہے:
دعا:
“اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِیلَةَ وَالْفَضِیلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِی وَعَدْتَهُ”
ترجمہ: “اے اس مکمل پکار کے رب، اور قائم ہونے والی نماز کے رب! محمد ﷺ کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما، اور انہیں وہ مقامِ محمود عطا فرما جس کا تو نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے۔” (صحیح بخاری)
4. اذان اور اقامت کے درمیانی وقت کی فضیلت
اذان اور اقامت کے درمیان کا وقت دعا کے لیے بہترین ہے۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“اذان اور اقامت کے درمیان کی جانے والی دعا رد نہیں کی جاتی، اس لیے (اس وقت) دعا کیا کرو۔” (جامع ترمذی، سنن ابوداؤد)
5. اقامت کا جواب اور ایک غلط فہمی
- بعض لوگ اقامت کے کلمات کا جواب بھی اذان کی طرح دیتے ہیں۔ بعض علماء اسے مستحب سمجھتے ہیں، جبکہ شیخ ابن عثیمینؒ جیسے محققین کے نزدیک اس کی احادیث ضعیف ہیں، اس لیے خاموشی بہتر ہے۔
- ایک اہم وضاحت: جب موذن اقامت میں “قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوۃُ” کہے، تو اس کے جواب میں “أَقَامَهَا اللہُ وَأَدَامَهَا” کہنا ثابت نہیں ہے، کیونکہ اس بارے میں مروی حدیث ضعیف ہے۔ درست یہ ہے کہ اس کا جواب بھی “قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوۃُ” ہی سے دیا جائے (اگر کوئی جواب دینا چاہے)۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQs)
سوال 1: کیا اذان کے دوران بات چیت کی جا سکتی ہے؟ جواب: اذان کے دوران خاموشی اختیار کرنا اور اذان کا جواب دینا مستحب اور افضل ہے۔ بلا ضرورت بات چیت سے گریز کرنا چاہیے۔
سوال 2: کیا اقامت کے بعد کوئی خاص دعا ہے؟ جواب: اقامت کے فوراً بعد کوئی خاص دعا ثابت نہیں ہے۔ اقامت کے بعد صفیں سیدھی کرنی چاہئیں اور نماز کی نیت کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔
سوال 3: کیا ہر اذان کے بعد دعا پڑھنا لازمی ہے؟ جواب: یہ ایک عظیم سنت ہے جس سے نبی کریم ﷺ کی شفاعت نصیب ہوتی ہے، اسے ترک نہیں کرنا چاہیے۔
{ “@context”: “https://schema.org”, “@graph”: [ { “@type”: “Article”, “headline”: “Azaan aur Iqamat ke darmiyan ki duayen aur azkaar”, “description”: “Azaan ka jawab dene ka tarika, azaan ke baad ki dua, aur azaan o iqamat ke darmiyan qubooliyat-e-dua ke waqt ki tafseeli malomat.”, “author”: { “@type”: “Person”, “name”: “Ali”, “url”: “https://istikhara.icu” }, “publisher”: { “@type”: “Organization”, “name”: “Istikhara ICU” }, “datePublished”: “2026-04-26”, “dateModified”: “2026-04-26”, “mainEntityOfPage”: { “@type”: “WebPage”, “@id”: “https://istikhara.icu/2023/07/31/har-dua-qabool-ho-gi-dua-kis-waqt-qabool-hoti-hai/” } }, { “@type”: “FAQPage”, “mainEntity”: [ { “@type”: “Question”, “name”: “Azaan aur Iqamat ke darmiyan dua ki kya ahmiyat hai?”, “acceptedAnswer”: { “@type”: “Answer”, “text”: “Hadees ke mutabiq azaan aur iqamat ke darmiyan ki gayi dua radd nahi ki jati, is liye ye waqt dua ke liye mustahib hai.” } }, { “@type”: “Question”, “name”: “Azaan ke baad kaun si dua parhni chahiye?”, “acceptedAnswer”: { “@type”: “Answer”, “text”: “Azaan ke baad ‘Allahumma Rabba Hazihid Da’watit Tammah…’ wali masnoon dua parhni chahiye jo shafa’at ka bais hai.” } } ] } ] }خلاصہ: اذان اللہ کی توحید کا اعلان ہے اور اقامت نماز کی تیاری۔ ان لمحات میں سنت کی پیروی کرنا ہی حقیقی کامیابی اور برکت کا باعث ہے۔


Leave a Reply