ALLAH Ke Siwa Koi Gaib Ka Ilam Janta Hai? Istikhara ICU - Free Online Istikhara for Marriage & Problems | Istikhara.icu

کیا اللہ کے سوا کوئی غیب کا علم جانتا ہے؟ قرآنی آیات کی روشنی میں ایک تحقیقی جائزہ

اسلامی عقائد میں “علمِ غیب” کا مسئلہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ بہت سے لوگ کم علمی کی وجہ سے پیروں، فقیروں یا نجومیوں کے پاس جا کر اپنے مستقبل کے حالات دریافت کرتے ہیں، جبکہ قرآنِ کریم نے اس بارے میں ایک واشگاف اور حتمی فیصلہ دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر یہ واضح فرمایا ہے کہ غیب کی کنجیاں صرف اور صرف اسی کے پاس ہیں۔

ذیل میں وہ قرآنی دلائل پیش کیے جا رہے ہیں جو علمِ غیب کو خالصتاً اللہ کی صفت ثابت کرتے ہیں۔

1. غیب کی کنجیاں صرف اللہ کے پاس ہیں

سورہ الانعام میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَا اِلَّا هُوَ… (آیت: 59) “اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں، ان کو کوئی نہیں جانتا بجز اللہ کے۔ اور وہ تمام چیزوں کو جانتا ہے جو کچھ خشکی میں ہیں اور جو کچھ دریاؤں میں ہیں۔”

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ زمین کی تہوں میں چھپا ایک دانہ ہو یا سمندر کی گہرائیوں کی کوئی مخلوق، ہر خشک و تر کا علم صرف اللہ کے پاس ہے اور یہ سب “کتابِ مبین” (لوحِ محفوظ) میں درج ہے۔

2. انبیاء کرام اور علمِ غیب

قرآنِ کریم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اللہ کے برگزیدہ پیغمبروں کے پاس بھی اپنی مرضی سے غیب جاننے کا اختیار نہیں تھا۔

  • حضرت عیسیٰ علیہ السلام: قیامت کے دن جب اللہ ان سے سوال کرے گا، تو وہ عرض کریں گے: “تو میرے دل کے اندر کی بات بھی جانتا ہے اور میں تیرے نفس میں جو کچھ ہے اس کو نہیں جانتا۔ تمام غیبوں کا جاننے والا تو ہی ہے۔” (سورہ المائدہ: 116)
  • رسول اللہ ﷺ: اللہ نے آپ ﷺ کو حکم دیا کہ فرما دیجیے: “اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو میں بہت سے منافع حاصل کر لیتا اور کوئی نقصان مجھ کو نہ پہنچتا۔” (سورہ الاعراف: 188)

3. غیب کے معاملے میں فرشتے اور دیگر مخلوقات

سورہ ہود میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ ذکر ہے کہ جب فرشتے ان کے پاس مہمان بن کر آئے اور انہوں نے بچھڑا ذبح کر کے پیش کیا، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام ڈر گئے کیونکہ فرشتے کھانا نہیں کھا رہے تھے۔ اگر آپؑ کو غیب کا علم ہوتا تو آپؑ پہلے ہی جان لیتے کہ وہ فرشتے ہیں، نہ کہ انسان۔

نجومی اور پیر باتیں سچی کیسے بتا دیتے ہیں؟

آرٹیکل کے اس حصے کو پڑھنے کے بعد بہت سے ذہنوں میں یہ سوال آتا ہے کہ اگر غیب صرف اللہ جانتا ہے، تو جادوگر یا عامل کچھ باتیں سچی کیسے بتا دیتے ہیں؟

حقیقت: اصل میں شیاطین اور جنات بعض اوقات آسمانوں سے “آدھی ادھوری” باتیں چرانے کی کوشش کرتے ہیں (جسے قرآن میں ‘استراقِ سمع’ کہا گیا ہے)۔ پھر وہ ان سچی باتوں میں سو جھوٹ ملا کر اپنے چیلوں (جادوگروں) کو بتاتے ہیں۔ لوگ ان کی ایک سچی بات دیکھ کر ان کے سو جھوٹوں پر بھی یقین کر لیتے ہیں، جو کہ گمراہی کا راستہ ہے۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

سوال 1: کیا انبیاء کو غیب کا علم بالکل نہیں ہوتا؟ جواب: انبیاء کرام کو اتنا ہی علم ہوتا ہے جتنا اللہ “وحی” کے ذریعے انہیں عطا فرماتا ہے۔ اسے ‘علمِ غیب’ نہیں بلکہ ‘اطلاع علی الغیب’ (غیب کی خبر دینا) کہا جاتا ہے۔ ذاتی طور پر ہر وقت غیب جاننا صرف اللہ کی صفت ہے۔

سوال 2: کیا استخارہ کرنے سے غیب کا پتہ چل جاتا ہے؟ جواب: استخارہ غیب جاننے کا ذریعہ نہیں بلکہ اللہ سے خیر کا مشورہ مانگنا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ بندے کے دل کو اس کام کی طرف مائل کر دیتا ہے جو اس کے حق میں بہتر ہوتا ہے۔

سوال 3: جادوگروں کی بتائی ہوئی باتیں سچی کیوں نکل آتی ہیں؟ جواب: جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا، وہ جنات کے ذریعے چھپ کر سنی گئی باتوں میں جھوٹ شامل کر کے بتاتے ہیں۔ یہ ایک آزمائش ہے تاکہ اللہ دیکھے کہ کون اس کے کلام پر یقین رکھتا ہے اور کون کاہنوں کے پیچھے جاتا ہے۔

سوال 4: کیا قیامت کا وقت کوئی جان سکتا ہے؟ جواب: ہرگز نہیں! سورہ الاعراف کی آیت 187 کے مطابق قیامت کا علم صرف اللہ کے پاس ہے اور وہ اچانک آئے گی۔


⚠️ عقیدہ و ایمان کا ڈس کلیمر

یہ تحریر خالصتاً قرآنی آیات کی روشنی میں عقیدے کی اصلاح کے لیے تیار کی گئی ہے۔ ہمارا مقصد کسی فرقے یا گروہ کی دل آزاری نہیں، بلکہ اللہ کی وحدانیت اور اس کی صفات کو واضح کرنا ہے۔ مستقبل کا حال جاننے کے لیے نجومیوں یا غیر شرعی عاملوں کے پاس جانا ایمان کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ ہمیشہ قرآن و سنت سے رہنمائی لیں۔

{ “@context”: “https://schema.org”, “@graph”: [ { “@type”: “Article”, “headline”: “Kya Allah Ke Siwa Koi Gaib Ka Ilm Janta Hai? Qurani Dalail”, “description”: “Ilm-e-Gaib ke bare mein Qurani ayat aur haqaiq. Kya anbiya aur wali gaib jante hain? Jadu-tonay walon ki sachai ka parda fash.”, “image”: “https://istikhara.icu/wp-content/uploads/2023/07/quran.jpg”, “author”: { “@type”: “Person”, “name”: “Ali”, “url”: “https://istikhara.icu” }, “publisher”: { “@type”: “Organization”, “name”: “Istikhara ICU” }, “datePublished”: “2023-07-31”, “dateModified”: “2026-04-27”, “mainEntityOfPage”: { “@type”: “WebPage”, “@id”: “https://istikhara.icu/2023/07/31/allah-ke-siwa-koi-gaib-ka-ilam-janta-hai-istikhara-icu/” } }, { “@type”: “FAQPage”, “mainEntity”: [ { “@type”: “Question”, “name”: “Kya Allah ke siwa koi gaib janta hai?”, “acceptedAnswer”: { “@type”: “Answer”, “text”: “Quran pak ki roshni mein gaib ki kunjiyaan sirf Allah ke paas hain. Allah ke siwa koi bhi zati taur par gaib nahi jan sakta.” } }, { “@type”: “Question”, “name”: “Anbiya ko gaib ka ilm kaise hota hai?”, “acceptedAnswer”: { “@type”: “Answer”, “text”: “Anbiya ko Allah ‘Wahi’ ke zariye utni khabar deta hai jitni Allah ki marzi hoti hai. Ise ‘Ittila-ala-al-gaib’ kehte hain.” } }, { “@type”: “Question”, “name”: “Najoomi aur jadu-gar baatein sachi kaise bata dete hain?”, “acceptedAnswer”: { “@type”: “Answer”, “text”: “Jadu-gar jinno ke zariye kuch baatein chura kar unmein jhoot mila kar batate hain taake logon ko gumrah kar sakein.” } } ] } ] }
Please follow and like us:
Pin Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Rating