Why is the guardian of the woman in marriage? - Free Online Istikhara for Marriage & Problems | Istikhara.icu

Why is the guardian of the woman in marriage?

عورت نکاح میں ولی کی محتاج کیوں ہے؟ (قسط نمبر 1): قرآنی دلائل کا علمی جائزہ

اسلامی قانونِ نکاح میں “ولایت” (ولی کی موجودگی) ایک بنیادی بحث ہے۔ جہاں مرد کو نکاح کے لیے ولی کی شرط سے آزاد رکھا گیا ہے، وہیں عورت کے نکاح کی نسبت قرآن مجید نے اولیاء کی طرف کی ہے۔ اس مضمون میں ہم قرآنی آیات اور جلیل القدر مفسرین کی آراء کی روشنی میں اس مسئلے کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔


نکاح کی نسبت مردوں کی طرف: قرآنی استدلال

قرآن کریم کے اسلوبِ بیان پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں کہیں بھی خود نکاح کرنے کا ذکر کیا، وہاں خطاب مردوں سے فرمایا۔ اس سے یہ نکتہ واضح ہوتا ہے کہ مرد کو نکاح کرنے میں کسی ولی کی شرط نہیں۔

۱. مرد کی خود مختاری پر مبنی آیات

درج ذیل آیات میں نکاح کی نسبت براہِ راست مرد کی طرف ہے:

  • سورۃ النساء (آیت ۳): “من پسند عورتوں سے نکاح کر لو۔”
  • سورۃ الممتحنہ (آیت ۱۰): “ان عورتوں سے نکاح کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں جب تم ان کو مہر دے دو۔”
  • سورۃ النساء (آیت ۱۲۷): “تم یتیم لڑکیوں سے نکاح کرنے کی رغبت کرتے ہو۔”
  • سورۃ النور (آیت ۳): “زانی مرد، زانیہ یا مشرکہ عورت سے ہی نکاح کرتا ہے۔”

ان تمام مقامات پر فعلِ نکاح کی نسبت مرد کی طرف ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ مرد اپنے نکاح کا خود ذمہ دار ہے اور اسے کسی ولی کے اذن کی ضرورت نہیں۔


نکاح کرانے کا اختیار: اولیاء کو خطاب

دوسری جانب، جب عورت کے نکاح کی بات آئی تو اللہ تعالیٰ نے خطاب اولیاء (والد، بھائی، دادا وغیرہ) سے فرمایا۔ یہ اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ عورت اپنا نکاح خود کرنے کی براہِ راست مجاز نہیں، بلکہ یہ ولی کے ذریعے ہوگا۔

۲. اولیاء کو حکمِ نکاح کی آیات

  1. سورۃ النور (آیت ۳۲): ﴿وَأَنكِحُوا الأَيـٰمىٰ مِنكُم﴾ “اور (اے ولیو!) تم نکاح کر دیا کرو اپنی بیوہ عورتوں کا۔”
  2. سورۃ البقرہ (آیت ۲۲۱): ﴿وَلا تُنكِحُوا المُشرِ‌كينَ﴾ “اور (اے ولیو!) مشرک مردوں کے نکاح میں نہ دو (مسلمان عورتوں کو)۔”

علمی نکتہ: اگر عورت اپنا نکاح خود کرنے کی مختار ہوتی، تو اللہ تعالیٰ اولیاء کو یہ حکم نہ دیتا کہ “تم نکاح کر دو”۔ حکم ہمیشہ اسی کو دیا جاتا ہے جس کے پاس اختیار یا ولایت ہو۔


جلیل القدر مفسرین اور فقہاء کی آراء

اس مسئلے پر امت کے بڑے مفسرین نے ان آیات سے استدلال کیا ہے کہ ولی کے بغیر نکاح جائز نہیں۔

امام شوکانیؒ (فتح القدیر)

امام شوکانیؒ لکھتے ہیں کہ آیت ﴿وَأَنكِحُوا الأَيـٰمىٰ﴾ میں خطاب اولیاء کو ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عورت اپنا نکاح خود نہیں کر سکتی۔ اگرچہ امام ابوحنیفہؒ کا اس میں اختلاف ہے، مگر جمہور مفسرین کا رجحان ولایتِ ولی کی طرف ہے۔

قاضی ابن العربیؒ (احکام القرآن)

قاضی ابن العربیؒ نے سورۃ القصص کی آیت ﴿إِنّى أُر‌يدُ أَن أُنكِحَكَ إِحدَى ابنَتَىَّ هـٰتَينِ﴾ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا: “ہمارے علماء نے کہا ہے کہ اس میں دلیل ہے کہ نکاح کرنا ولی کے اختیار میں ہے۔ عورت کا بغیر اجازتِ ولی کوئی اختیار نہیں۔” انہوں نے مزید واضح کیا کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: “جس عورت نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا، اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے۔”

عضل (نکاح سے روکنا) اور ولی کا حق

قرآن میں فرمایا گیا: ﴿فَلا تَعضُلوهُنَّ﴾ “پس تم (اولیاء) انہیں مت روکو (نکاح سے)۔”

  • استدلال: مفسرین (بشمول امام بخاریؒ) فرماتے ہیں کہ اگر ولی کا حقِ نکاح نہ ہوتا، تو اسے روکنے سے منع کرنے کا کوئی فائدہ نہ تھا۔ یہ آیت معقل بن یسارؓ کے واقعے پر نازل ہوئی جنہوں نے اپنی بہن کو سابقہ شوہر سے نکاح سے روکا تھا۔ اگر بہن خود مختار ہوتی تو معقلؓ کو منع کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔

خلاصہِ کلام

قرآنی آیات کے گہرے مطالعے سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ:

  1. نکاح کا کرنا مرد کا حق ہے۔
  2. نکاح کا کرانا ولی کا حق اور ذمہ داری ہے۔

اسلام نے عورت کی حفاظت، وقار اور خاندانی نظام کی مضبوطی کے لیے ولی کی شرط رکھی ہے تاکہ وہ جذباتی فیصلوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات سے محفوظ رہ سکے۔

قسط نمبر 2 میں ملاحظہ فرمائیں: احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں ولی کی اہمیت اور وہ احادیث جن میں صراحت کے ساتھ ولی کے بغیر نکاح کو باطل قرار دیا گیا ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQs)

س: کیا عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کر سکتی ہے؟ ج: جمہور فقہاء اور مفسرین (امام مالک، شافعی، اور احمد بن حنبل) کے نزدیک ولی کی شرکت یا اجازت کے بغیر نکاح باطل ہے۔ اس کا استدلال قرآن کی آیات اور ان احادیث سے ہے جن میں صراحت ہے کہ “ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا”۔

س: اگر ولی بلاوجہ نکاح سے روکے تو کیا کیا جائے؟ ج: قرآن کریم میں اولیاء کو “عضل” (بلاوجہ روکنے) سے منع کیا گیا ہے۔ اگر ولی شرعی بنیاد کے بغیر رکاوٹ ڈالے تو عورت قاضی (عدالت) یا خاندان کے دیگر بزرگوں سے رجوع کر سکتی ہے، کیونکہ اسلام میں ظلم کی اجازت نہیں ہے۔

س: کیا مرد کو بھی نکاح کے لیے ولی کی ضرورت ہوتی ہے؟ ج: قرآن مجید میں نکاح کرنے کی نسبت براہِ راست مردوں کی طرف کی گئی ہے، اس لیے مرد اپنا نکاح کرنے میں خود مختار ہے اور اسے ولی کی شرط سے آزاد رکھا گیا ہے۔


ضروری انتباہ (Disclaimer)

اعلانِ دستبرداری: یہ مضمون خالصتاً تعلیمی اور تحقیقی مقاصد کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد قرآن و سنت اور مستند مفسرین کی آراء کی روشنی میں “ولایتِ نکاح” کی وضاحت کرنا ہے۔ یہ کسی قسم کا قانونی فتویٰ نہیں ہے۔ نکاح، طلاق اور وراثت جیسے حساس معاملات میں حتمی فیصلے سے قبل اپنے مقامی مفتیِ کرام یا مستند قانونی مشیر سے رجوع کرنا لازمی ہے۔ ویب سائٹ انتظامیہ کسی بھی انفرادی فیصلے کی ذمہ دار نہیں ہوگی۔

{ “@context”: “https://schema.org”, “@graph”: [ { “@type”: “Article”, “headline”: “Aurat Nikah Mein Wali Ki Muhtaj Kyun Hai? Qurani Dalail”, “description”: “Aurat ke Nikah mein Wali ki ehmiyat aur sharai hesiyat. Quran-e-Majeed ki roshni mein mufassireen ka ilmi tajzia aur dalail.”, “image”: “https://istikhara.icu/wp-content/uploads/2023/07/Nikah-Why-is-the-guardian-of-the-woman-in-marriage.jpeg”, “author”: { “@type”: “Person”, “name”: “Ali”, “url”: “https://istikhara.icu” }, “publisher”: { “@type”: “Organization”, “name”: “Istikhara ICU”, “logo”: { “@type”: “ImageObject”, “url”: “https://istikhara.icu/wp-content/uploads/2023/07/istikhara-icu-logo.png” } }, “datePublished”: “2023-07-31”, “dateModified”: “2026-04-27”, “mainEntityOfPage”: { “@type”: “WebPage”, “@id”: “https://istikhara.icu/2023/07/31/why-is-the-guardian-of-the-woman-in-marriage/” } }, { “@type”: “FAQPage”, “mainEntity”: [ { “@type”: “Question”, “name”: “Kya aurat wali ki ijazat ke baghair nikah kar sakti hai?”, “acceptedAnswer”: { “@type”: “Answer”, “text”: “Jamhoor mufassireen aur fuqaha ke nazdeek wali ki ijazat ke baghair nikah jaiz nahi hai. Iska istehdar Quran ki ayat aur sahih ahadees se milta hai.” } }, { “@type”: “Question”, “name”: “Agar wali bila-waja nikah se rokay to kya sharai hukam hai?”, “acceptedAnswer”: { “@type”: “Answer”, “text”: “Quran mein ise ‘Azal’ kaha gaya hai aur is se mana kiya gaya hai. Agar wali bila-waja rukawat dale to aurat sharai qazi ya adalat se ruju kar sakti hai.” } } ] } ] }
Please follow and like us:
Pin Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Rating
RSS
Follow by Email