رقیہ شرعیہ کیا ہے؟ دم درود کی حقیقت اور شرعی حیثیت
اسلام میں بیماریوں اور آفات سے نجات کے لیے جہاں ادویات کا استعمال ثابت ہے، وہاں کلامِ الٰہی اور مسنون دعاؤں کے ذریعے علاج بھی سنتِ نبوی ﷺ ہے۔ اسی روحانی علاج کو شرعی اصطلاح میں “رقیہ شرعیہ” کہا جاتا ہے۔
رقیہ کی تعریف
امام ابن اثیرؒ کے مطابق، رقیہ وہ دعا یا کلام ہے جس کے ذریعے کسی مصیبت زدہ (مثلاً بخار، مرگی یا نظرِ بد کے مریض) کا علاج کیا جائے۔ عام زبان میں اسے “جھاڑ پھونک” یا “دم درود” بھی کہتے ہیں۔
کیا دم درود جائز ہے؟ (احادیث کی روشنی میں)
احادیثِ مبارکہ میں رقیہ کے حوالے سے دو طرح کے پہلو ملتے ہیں، جن کی وضاحت درج ذیل ہے:
1. رقیہ کا جواز (اجازت)
نبی کریم ﷺ نے نظرِ بد لگ جانے والی ایک خاتون کے بارے میں فرمایا: “اسے جھاڑ پھونک (رقیہ) کرو کیونکہ اسے نظر لگ گئی ہے۔” اسی طرح آپ ﷺ نے کئی صحابہ کو دم کرنے کی اجازت عطا فرمائی اور خود بھی تکلیف کی صورت میں معوذتین (سورہ فلق اور سورہ ناس) پڑھ کر اپنے جسم پر دم فرمایا۔
2. رقیہ سے ممانعت (کب منع ہے؟)
بعض احادیث میں دم درود سے منع کیا گیا ہے، جیسے ارشاد ہوا: “نیک لوگ وہ ہیں جو جھاڑ پھونک نہیں کرواتے۔” تطبیق (دونوں باتوں میں فرق): علماء فرماتے ہیں کہ وہ دم درود جو منع یا مکروہ ہے، اس سے مراد وہ جاہلانہ طریقے ہیں جن میں:
- غیر عربی یا نامعلوم الفاظ استعمال کیے جائیں۔
- اللہ کے بجائے کسی اور سے مدد مانگی جائے (شرکیہ کلمات)۔
- یہ عقیدہ رکھا جائے کہ دم بذاتِ خود اثر کرتا ہے (اللہ کے حکم کے بغیر)۔
رقیہ شرعیہ کی شرائط
رقیہ کے جائز ہونے کے لیے تین شرائط کا ہونا لازمی ہے:
- وہ اللہ کے کلام (قرآن)، اس کے ناموں یا صفات پر مشتمل ہو۔
- وہ واضح عربی زبان میں ہو جس کا مفہوم سمجھ میں آتا ہو۔
- یہ عقیدہ ہو کہ شفا دینے والی ذات صرف اللہ ہے، رقیہ صرف ایک ذریعہ ہے۔
کیا دم پر اجرت لینا جائز ہے؟
حضور ﷺ کے دور میں ایک صحابی نے سورہ فاتحہ کے ذریعے ایک مریض کو دم کیا اور اس پر بکریاں اجرت میں لیں۔ جب نبی کریم ﷺ کو معلوم ہوا تو آپ ﷺ نے نہ صرف اس کی تصدیق فرمائی بلکہ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: “تم نے برحق دم کر کے اجرت لی ہے۔” اس سے معلوم ہوا کہ شرعی دم پر ہدیہ یا اجرت لینا جائز ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQs)
سوال 1: کیا میں خود اپنا رقیہ کر سکتا ہوں؟ جواب: جی ہاں! خود پر دم کرنا (Self-Ruqyah) سب سے بہترین عمل ہے، کیونکہ اس میں انسان کا اپنا اضطرار اور اخلاص شامل ہوتا ہے۔
سوال 2: رقیہ کے لیے کون سی سورتیں بہترین ہیں؟ جواب: سورہ فاتحہ، آیت الکرسی، سورہ بقرہ کی آخری دو آیات اور آخری تین قُل رقیہ کے لیے سب سے زیادہ مستند اور طاقتور ہیں۔
سوال 3: رقیہ کا اثر کب ہوتا ہے؟ جواب: رقیہ کا اثر تب ہوتا ہے جب پڑھنے والے کا تقویٰ اور سننے والے کا یقین مضبوط ہو۔ شفا اللہ کے حکم سے ہی ملتی ہے۔
{ “@context”: “https://schema.org”, “@graph”: [ { “@type”: “Article”, “headline”: “Ruqyah Shariah Kya Hai? Dum Darood ki Haqeeqat”, “description”: “Ruqyah Shariah se morad sharai dum darood hai. Iski sharait, ahadees ki roshni mein jawaz aur haqeeqat ki mukammal wazahat.”, “image”: “https://istikhara.icu/wp-content/uploads/2023/07/Ruqqia-Kia-Hai-Ruqqia-Dum-Darood-Ki-Haqeeqat.png”, “author”: { “@type”: “Person”, “name”: “Ali”, “url”: “https://istikhara.icu” }, “publisher”: { “@type”: “Organization”, “name”: “Istikhara ICU” }, “datePublished”: “2023-07-31”, “dateModified”: “2026-04-26”, “mainEntityOfPage”: { “@type”: “WebPage”, “@id”: “https://istikhara.icu/2023/07/31/ruuqyah-kia-hai-ruqyah-dum-darood-ki-haqeeqat/” } } ] }خلاصہ: رقیہ شرعیہ ایک مسنون علاج ہے جو جادو، نظرِ بد اور جسمانی بیماریوں کے لیے ڈھال ہے۔ شرط یہ ہے کہ اسے شرکیہ کلمات سے پاک رکھا جائے اور توکل صرف اللہ کی ذات پر ہو۔

Leave a Reply