قرآنی آیات اور مسنون دعاؤں والے تعویذ: شرعی حکم اور حقائق
اسلام میں بیماریوں اور پریشانیوں کا علاج قرآن و سنت کی روشنی میں موجود ہے۔ جہاں جادو اور غیر شرعی کلمات والے تعویذ بالاتفاق حرام اور شرک ہیں، وہیں قرآنی آیات اور مسنون دعاؤں پر مشتمل تعویذ لٹکانے کے بارے میں اہل علم کے درمیان علمی اختلاف پایا جاتا ہے۔ تاہم، محقق علماء کی رائے میں سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کرتے ہوئے ہر قسم کے تعویذ سے اجتناب ہی بہتر ہے۔
Istikhara.icu پر آئیے اس نازک مسئلے کی تفصیلات اور صحابہ کرام کے اقوال کی روشنی میں حقیقت جانتے ہیں۔
تعویذ کے بارے میں مختلف آراء
1. قرآنی تعویذ کو جائز کہنے والوں کا موقف:
علماء کی ایک جماعت، جن میں امام مالک، سعید بن مسیب، اور امام احمد بن حنبل کی ایک روایت شامل ہے، کا خیال ہے کہ اگر تعویذ میں صرف قرآن یا اللہ کے نام ہوں تو وہ جائز ہے۔ ان کے دلائل درج ذیل ہیں:
- قرآن شفا ہے: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: “ہم اس قرآن میں وہ کچھ نازل کر رہے ہیں جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے۔” (سورہ بنی اسرائیل: 82)
- حضرت عبداللہ بن عمرو کا عمل: ایک روایت کے مطابق وہ اپنے چھوٹے بچوں کے گلے میں دعا لکھ کر لٹکا دیتے تھے تاکہ انہیں یاد ہو جائے۔ (نوٹ: محققین کے نزدیک یہ یاد کرنے کے لیے تھا، نہ کہ برکت کے تعویذ کے طور پر)۔
2. ہر قسم کے تعویذ کو ممنوع کہنے والوں کا موقف (راجح قول):
اکثر صحابہ کرام (جیسے ابن مسعود، ابن عباس، حذیفہ رضی اللہ عنہم) اور محقق علماء کے نزدیک قرآنی تعویذ لٹکانا بھی درست نہیں۔ ان کے دلائل زیادہ مضبوط ہیں:
- طریقہ شفا صرف دم ہے: نبی کریم ﷺ نے قرآن سے علاج کا طریقہ تلاوت اور دم (پڑھ کر پھونکنا) بتایا ہے، لٹکانا نہیں۔
- سدِ ذریعہ: اگر قرآنی تعویذ کی اجازت دی جائے تو یہ غیر قرآنی اور شرکیہ تعویذوں کے لیے بھی راستہ کھول دیتا ہے۔
- قرآن کی توہین: تعویذ پہن کر انسان ناپاکی کی جگہوں پر جاتا ہے، جو اللہ کے کلام کی بے ادبی ہے۔
سنت طریقہ: تلاوت اور دم (رقیہ شرعیہ)
نبی کریم ﷺ کا معمول مبارک تعویذ لٹکانا نہیں بلکہ درج ذیل سورتوں اور آیات کو پڑھ کر دم کرنا تھا:
- معوذات (سورہ اخلاص، فلق، الناس): آپ ﷺ ہر رات انہیں پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر دم کرتے اور پورے جسم پر پھیرتے تھے۔
- آیت الکرسی: شیطان کے شر سے بچنے کے لیے یہ اکسیر ہے، جو اسے رات کو پڑھے گا، اللہ کی طرف سے ایک محافظ اس کی نگرانی کرے گا۔
- مسنون دعائیں: “أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ…” جیسی دعائیں پڑھنا ہی سنت سے ثابت ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQs)
سوال 1: کیا تعویذ لٹکانے سے مراد پوری ہوتی ہے؟ جواب: حدیث کے مطابق، جس نے تعویذ لٹکایا اللہ اس کی مراد پوری نہ کرے۔ کامیابی اور شفا صرف اللہ کے حکم سے پڑھ کر دم کرنے میں ہے۔
سوال 2: کیا چھوٹے بچوں کے لیے تعویذ جائز ہے؟ جواب: بچوں کی حفاظت کے لیے بھی مسنون دعائیں پڑھ کر ان پر دم کرنا چاہیے، جیسا کہ نبی ﷺ حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما پر دم فرمایا کرتے تھے۔
{ “@context”: “https://schema.org”, “@graph”: [ { “@type”: “Article”, “headline”: “Qurani Ayaat aur Masnoon Duaon walay Taweez ka Shari Hukum”, “description”: “Kya Qurani taweez latkana jaiz hai? Sahaba karam aur muhaddiseen ki raye ki roshni mein mukammal tehqeeq. Sunnat-e-Nabwi aur Ruqyah Sharai ka tareeqa.”, “image”: “https://istikhara.icu/wp-content/uploads/2023/08/jadu-jinnat-our-uska-ilaj-istikhara-online-icu-best-wazifa-online.png”, “author”: { “@type”: “Person”, “name”: “Ali”, “url”: “https://istikhara.icu” }, “publisher”: { “@type”: “Organization”, “name”: “Istikhara ICU” }, “datePublished”: “2023-08-03”, “dateModified”: “2026-04-24”, “mainEntityOfPage”: { “@type”: “WebPage”, “@id”: “https://istikhara.icu/2023/08/03/qurani-ayat-dum-taveez-aur-uska-hukam-istikhara-icu/” } }, { “@type”: “FAQPage”, “mainEntity”: [ { “@type”: “Question”, “name”: “Kya har qisam ka taweez haraam hai?”, “acceptedAnswer”: { “@type”: “Answer”, “text”: “Muhaqiq ulma ke mutabiq har qisam ka taweez latkana mana hai. Shifa ke liye Quran ki tilawat aur dam (Ruqyah) hi sunnat tareeqa hai.” } } ] } ] }مختصر ڈس کلیمر: یہ مضمون خالصتاً تعلیمی اور اصلاحی مقصد کے لیے ہے۔ شرعی مسائل میں اپنے مقامی مستند علماء سے رجوع کریں اور کسی بھی بیماری کی صورت میں روحانی علاج کے ساتھ ساتھ طبی معائنہ اور ڈاکٹر سے مشورہ بھی لازمی کریں۔


Leave a Reply